نور الہدیٰ کلاں سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی دیگر تمام تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور و معروف تصنیف ہے جس میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فقر و معرفت کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور علم باطنی کے تمام مشکل و دقیق مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کتاب کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عین نما“ کا خطاب دیتے ہوئے فقر کا نصاب قرار دیا ہے ۔ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اس تصنیف کے متعلق فرماتے ہیں:
یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے طریقہ کے مطابق اللہ کی عطا اور اس کے فیض و فضل کی بدولت طریق تحقیق سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب مبتدی و منتہی دونوں کو معرفت الہی میں کامل کر دیتی ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے وہ عالم فاضل اور صاحب تفسیر بن جاتا ہے ۔
امیر الکونین مشہور صوفی بزرگ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف مبارکہ ہے ۔ یوں تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ہر تصنیف میں اسم اللہ ذات کے ذکر و تصور اور مرشد کامل اکمل کی صحبت سے دیدار حق تعالیٰ اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصول کے متعلق تفصیلاً بیان فرمایا ہے لیکن امیر الکونین خاص طور پر قرب و حضور حق اور معرفت و وصال الہی کے مراتب بیان کرتی ہے۔ اللہ کے قرب و دیدار کی حضوری کے یہ مراتب صرف اس مرشد کامل اکمل کی نظر کرم سے ہی ممکن ہیں جس کی شان امیر الکونین ہو۔
اہل بیت رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے ہر قسم کے رجس سے پاک و طاہر فرمادیا ہے اور وہ سفینہ نوح علیہ السلام کی مانند ہیں جو ان سے وابستہ ہو ا فلاح پا گیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی مانند ہیں جو کسی ایک ستارہ سے وابستہ ہو اصراط مستقیم پا گیا زمانہ قدیم میں لوگ ستاروں کی مدد سے راستہ تلاش کیا کرتے تھے
آپ رحمتہ اللہ علیہ اس کتاب کے متعلق خود فرماتے ہیں : " جو اس کتاب کو اپنے مطالعہ میں رکھے اور اس پر عمل بھی کرے وہ صاحب توفیق عارف باللہ بن جاتا ہے اور ہمیشہ پر نور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری سے مشرف رہتا ہے۔ تمام انبیا اور اولیا اللہ کی ارواح اس سے ملاقات کرتی ہیں اور ظاہر و باطن کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہتی۔
My Experience with Sultan ul Ashiqeen نور الہدیٰ کلاں سلطان العارفین